جمعرات، 21 مئی، 2026

(خلوت صحیحہ کے بغیر طلاق دی تو حلالہ ہے یا نہیں ؟)

 

  (خلوت صحیحہ کے بغیر طلاق  دی تو حلالہ  ہے یا نہیں ؟)

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ لڑکے نے لڑکی کو نکاح کے بعد طلاق  دے دی رخصتی نہیں ہوئی ہے اب یہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس میں حلالے کی ضرورت تو نہیں پڑے گی؟ رہنمائی کردیں، ابھی ان کی خلوت نہیں ہوئی ہے۔

سائل: معرفت شکیل، کراچی


باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: اگر لڑکے نے ایک لفظ میں تین طلاقیں دی ہیں۔ مثلاً یہ کہا کہ تجھے تین طلاق تو تین طلاق واقع ہوگئیں۔ اس صورت میں بغیر حلالہ شرعی کے دوبارہ ان کا نکاح جائز نہیں اور اگر ایک لفظ میں دو طلاقیں دی ہیں۔ مثلاً یہ کہا کہ تجھے دو طلاق تو دو طلاق واقع ہوگئیں اور اگر تین مرتبہ الگ الگ تین طلاقیں دی ہیں۔ مثلاً یہ کہا کہ تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق تو پہلی طلاق سے ہی نکاح ختم ہوگیا اور دوسری دو طلاقیں واقع نہیں ہوئیں کیونکہ شوہر نے جسمانی تعلق قائم نہیں کیا اور نہ ہی خلوت واقع ہوئی ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے۔ ایک یا دو طلاقوں کی صورت میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ ان کا نکاح ہوسکتا ہے، حلالہ کی ضرورت نہیں۔

   چنانچہ امام برہان الدین علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ھ لکھتے ہیں: وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق. (الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، ۱/۲۳۳)

یعنی، اگر شوہر نے اپنی  بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے اسے تین طلاق دے دی تو وہ سب اس پر واقع ہوں گی اور اگر شوہر نے طلاق میں تفریق کردی تو بیوی پہلی طلاق سے بائنہ ہوجائے گی اور دوسری تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور یہ مثلاً شوہر یوں کہے تجھے طلاق طلاق طلاق۔والله تعالیٰ أعلم بالصواب

کتبہ

محمد اُسامہ قادری

جمعہ،۳/شعبان، ۱۴۴۷ھ۔۲۳/جنوری، ۲۰۲۶م

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only