(حالت حیض میں بیعت ہوناکیساہے؟)
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
مفتی صاحب کے بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ کیا عورت حالت حیض میں پیر صاحب سے بیعت ہوسکتی ہے ؟
المستفتی۔ غلام جیلانی مجاہدی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
عورت کا حالتِ حیض میں کسی پیرِ کامل و شیخِ معتبر سے بیعت ہونا شرعاً جائز ہے کیونکہ بیعت کے لیے نہ وضو شرط ہے اور نہ غسلِ حیض بیعت دراصل شیخ کے ہاتھ پر اصلاحِ نفس، التزامِ شریعت اور اطاعتِ خیر کی نیت سے عہد و پیمان کا نام ہے، اور اس کے لیے طہارت شرط نہیں، اس کی تائید اس اصول سے بھی ہوتی ہے کہ حالتِ حیض میں اگرچہ قرآنِ کریم کی تلاوت بہ نیتِ تلاوت سے ممانعت ہے، لیکن بعض آیات اگر دعا، ذکر یا وظیفہ کی نیت سے پڑھی جائیں تو اہلِ علم نے اس کی گنجائش بیان فرمائی ہے کیونکہ حکم کا مدار محض الفاظ پر نہیں بلکہ قصد و غرض پر بھی ہوتا ہے، اسی طرح بیعت بھی کوئی ایسی عبادت نہیں جس کے لیے طہارت شرط قرار دی گئی ہو بلکہ یہ اصلاح و تربیت اور عہدِ طاعت کا معاملہ ہے لہٰذا جس طرح حیض کی حالت دعا ذکر اور بعض وظائف سے مانع نہیں اسی طرح بیعت سے بھی مانع نہیں البتہ اگر بیعت کے موقع پر مصحفِ شریف کو بلا حائل چھونا یا کوئی ایسا عمل کیا جائے جس کے لیے شرعاً طہارت ضروری ہو تو اس سے اجتناب کیا جائے !
حضور صدر الشریعہ فرماتے ہیں اگر قرآن کی آیت دعاء کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم یا ادائے شکر کو یا چھینکنے کے بعد الحمدللہ رب العالمین یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا یا بہ نیت ثواب پوری سورۂ فاتحہ یا آیت الکرسی یا سورۂ حشر کی پہلی تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ سے آخر سورت تک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیت نہ ہو تو کچھ حرج نہیں۔ یوں تینوں قل بلا لفظ قل بہ نیت ثواب پڑھ سکتا ہے اور لفظ قل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔ اگرچہ بہ نیت ثواب ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا متعین ہے، نیت کو کچھ دخل نہیں۔
درود شریف اور دعاؤں کے پڑھنے میں انہیں حرج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ وضو یا گلی کر کے پڑھیں (بہار شریعت جلد اول حصہ دوم صفحہ نمبر 326 دعوت اسلامی)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار
ایک تبصرہ شائع کریں