(حیض والی کو رمضان یا غیر رمضان میں علانیہ کھانا کیساہے؟)
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ (1) روزے کی حالت میں حیض آ جائے تو کیا حائضہ عورت کھا پی سکتی ہے یا نہیں ؟ *بہار شریعت میں لکھا ہے کہ حیض ونفاس والی کے لیے اختیار ہے کہ چھپ کر کھائے یا ظاہراً روزہ کی طرح رہنا اس پر ضروری نہیں مگر چھپ کر کھانا اولی ہے خصوصاً حیض والی کے لیے*( بہار شریعت ح۵ ص ۱۰۱۰) لیکن دیگر کتب فقہ میں اس کے برعکس ہے جیسا کہ *منحة الخالق میں ہے : ولا يصح صومها ذلك اليوم کأنها أصبحت وهي حائض ولكن عليها الإمساك تشبها و تقضية* ترجمہ اور اس دن کا روزہ بھی صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس نے صبح اس حال میں کی ہے کہ وہ حائضہ ہے لیکن *روزہ داروں سے مشابہت اختیار کرتے ہوئے اس پر کھانے پینے سے رکنا اور روزے کی قضا کرنا لازم ہوگا* ( منحة الخالق، ج ١،ص ۲۱۵، بیروت) اسی طرح مبسوط میں ہے : *واذا طهرت الحائض في بعض نهار رمضان لم يجزها صومها في ذلك اليوم لانعدام الاهلية للاداء في اوله وعليها الامساك عندنا.*
ترجمہ: حیض والی عورت رمضان کے دن کے کسی حصے میں پاک ہوئی تواس کا آج کا روزہ ادا نہیں ہوگا کیونکہ روزے کے اول وقت میں وہ روزے کی اہل نہیں تھی، البتہ *ہمارے نزدیک اس پر سارا دن بھوکا پیاسا رہنا لازم ہے۔* (المبسوط ، ج ۳, ص ۵۷ دار المعرفة، بيروت) اسی طرح شرح فتح القدیر میں ہے: *كل من تحقق بصفة أثناء النهار أو قارن ابتداء وجودها طلوع الفجر وتلك الصفة بحيث لو كانت قبله واستمرت معه وجب عليه الصوم فإنه يجب عليه الإمساك تشبها كالحائض والنفساء يطهران بعد الفجر
ترجمہ: ہر وہ شخص جو دن میں یا دن کی ابتدا میں طلوع فجر کے وقت روزہ رکھنے کی صفت سے متصف ہو گیا ، یوں کہ اگر وہی حالت پہلے سے ہوتی اور جاری رہتی تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہوجاتا *تو اس شخص پر روزه داروں سے مشابہت کی بنا پر کھانے پینے سے رکنا واجب ہے* جیسے حیض و نفاس والی عورتیں جو فجر کے بعد یا فجر کے وقت میں پاک ہوئی ہوں۔ شرح (فتح القدير ، ج ۲، ص ۳۶۸،دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان) بہار شریعت کی عبارت اور منحة الخالق،مبسوط، اور فتح القدیر کی عبارت کے مابین کیا تطبیق ہوگی .؟ نیز مذہب حنفی کیا ہے اس مسئلہ میں مفتی بہ قول کیا ہے؟
(2) چھپ کر کھانا اولی ہے تو عام دنوں میں کیا چھپ کر کھانے کا حکم ہے؟ بالتفصیل مدلل جواب عنایت فرمائیں
المستفتی: محمد شاہ رخ رضا قادری رامپور یوپی الہند
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:
(1) ان عبارات میں کوئی تعارض نہیں۔ مسئلہ بالکل واضح ہے کہ حیض و نفاس والی عورت کھا پی سکتی ہے۔ اسی طرح اگر روزے کے دوران عورت کو حیض یا نفاس آ جائے تو وہ بقیہ دن کھا پی سکتی ہے۔
البتہ اگر عورت رمضان کے دن میں حیض یا نفاس سے پاک ہو جائے یعنی حیض یا نفاس ختم ہو جائے، تو اب بقیہ دن روزہ داروں سے مشابہت اختیار کرتے ہوئے امساک یعنی کھانے پینے وغیرہ سے رکنا واجب ہے۔
لہٰذا "بہار شریعت" کی مذکورہ عبارت کا تعلق اس صورت سے ہے کہ عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو یا روزے کے دوران اسے حیض یا نفاس آ جائے۔ جبکہ "المبسوط" اور "فتح القدیر" کی مذکورہ عبارات اس صورت سے متعلق ہیں کہ عورت رمضان کے دن میں حیض یا نفاس سے پاک ہو جائے، تو اس پر بقیہ دن امساک لازم ہوگا۔
رہی "منحۃ الخالق" کی مذکورہ عبارت، تو وہ ایک الگ صورت سے متعلق ہے، یعنی حیض دس دن مکمل ہونے سے پہلے رات میں ختم ہو، لیکن اتنا کم وقت باقی ہو کہ عورت غسل کرکے کم از کم تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بقدر وقت نہ پا سکے۔ ایسی صورت میں اس دن کا روزہ صحیح نہ ہوگا، البتہ تشبہًا اس پر امساک لازم ہوگا اور بعد میں اس روزے کی قضا بھی لازم ہوگی۔
چنانچہ "تبیین الحقائق" اور "امداد الفتاح" کے حوالے سے "منحۃ الخالق" کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: لو طهرت قبل الصبح بأقل من وقت يسع الغسل مع التحريمة لا يجب عليها صلاة العشاء ولا يصح صومها ذلك اليوم كأنها أصبحت وهی حائض ولكن عليها الإمساك تشبها وتقضيه.(منحۃ الخالق علی البحر الرائق، ج 1، ص 215)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ عبارات میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ ہر عبارت اپنے مخصوص مسئلے اور صورت کے اعتبار سے ہے۔
(2) کتابوں میں حیض والی عورت کے لیے چھپ کر کھانے کو اولیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ اس کے حائضہ ہونے کا مخفی معاملہ لوگوں پر ظاہر نہ ہو، اور اسے بلا وجہ اپنی اس کیفیت کا اظہار نہ کرنا پڑے۔
البتہ شوہر کو عموماً عورت کے حیض کا علم ہوتا ہے، لہٰذا اس کے سامنے چھپ کر کھانے کی وہ وجہ نہیں پائی جاتی جو دوسرے لوگوں کے سامنے پائی جاتی ہے۔
اسی طرح اگر رمضان کے علاوہ دنوں میں کوئی عورت روزے کی حالت میں ہو اور پھر اسے حیض آ جائے، جبکہ جن لوگوں کے سامنے وہ کھا رہی ہو انہیں اس کے روزے کا پہلے سے علم نہ ہو، تو ان کے سامنے کھانے میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اس صورت میں اس کے حیض کو ظاہر کرنے یا چھپانے کا مسئلہ ہی نہیں۔ البتہ اگر لوگوں کو پہلے سے معلوم ہو کہ وہ روزے سے ہے، مثلاً اس نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے چھپ کر کھانا زیادہ مناسب ہوگا، تاکہ لوگوں کو شبہ یا بدگمانی نہ ہو۔
سوال میں ذکر کردہ "بہار شریعت" کی عبارت کے یہ الفاظ: "خصوصاً حیض والی کے لیے" اسی مصلحت کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛ کیونکہ حیض ایک ایسا معاملہ ہے جسے عورت عموماً دوسروں سے مخفی رکھتی ہے، اس لیے اس کے لیے چھپ کر کھانا زیادہ مناسب قرار دیا گیا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد اسامہ قادری
22/ ربیع الآخر، 1448ھ ، 5/ اکتوبر، 2026م
ایک تبصرہ شائع کریں