بدھ، 4 نومبر، 2026

(کئی سال کی زکوۃ باقی ہے تو کیاکرے؟)

 السلام علیکم ورحمۃ اللّٰه وبرکاتہ

بارگاہِ عالیہ میں ایک سوال پیش خدمت ہے کہ زید جو کہ ایک وقت میں بخالت سے کام لیتا تھا یہاں تک کہ کئی سالوں تک اس نے زکاۃ ادا نہیں کی لیکن کسی نے اسے سمجھایا تو وہ باز آیا اپنی بخالت سے تو سوال یہ ہے کہ اب وہ چاہتا ہے جو زکاۃ اس نے ادا نہیں کیا تھا وہ زکاۃ کی بھرپائی کرے تو کیا کوئی ایسی صورت ہے جس سے زکاۃ کی قضا ہو سکے اور مزید یہ بھی بتادیں کہ کیا جو بھی اس کے ضمن میں زکاۃ باقی تھی فقط توبہ سے وہ بری ہو سکتا ہے ؟براۓ کرم تشفی بخش جواب عطا فرماکر ممنون ہوں

سائل فقیرِ قادری عرفان رضا نعمانی جامتاڑا

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

بسم اللہ الرحمن الرحیم،

الجواب بعون الملک الوھاب وھو الموفق للحق والصواب  ۔

صورت مستفسرہ میں زید بخالت و کنجوسی کے سبب کئی سالوں تک زکوۃ ادا نہ کرنے کے سبب سخت گنہگار مستحق نار ہوا ، موجب غضب جبار ہوا ، 

زید پر اپنے اس عمل سے توبہ کرنا لازم و ضروری ہے،

 تو اب کسی کے سمجھانے سے زید اپنے اس کار بد سے باز آگیا اور وہ چاہتا ہے کہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے، تو  زید پر لازم ہے کہ گزشتہ سالوں میں سے ہر سال کا حساب لگا کر جس مقدار میں مال بنتا ہو اسی کے حساب زکوٰۃ نکال  کرشرعی فقیر کو ادا کر دے ، زکوٰۃ جب بھی فقیر کو دے گا ادا ہی ہوگی قضا نہیں،


نیز یاد رہے صرف توبہ کافی نہیں بلکہ تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی دینا لازم ہے، 


جب سال پورا ہو جایے تو زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر موجب جرم و گناہ ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت،  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: 

"" اگر سال گزر گیا اور زکوٰۃ واجب الادا ہو چکی تو اب تفریق و تدریج ممنوع ہوگی بلکہ فوراً تمام و کمال زر واجب الادا ادا کرے کہ مذہبِ صحیح و معتمد و مفتی پر ادائے زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے جس میں تاخیر باعثِ گناہ""

 (فتاوٰی رضویہ، جلد 10، کتاب الزکوۃ، صفحہ 80، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

خلاصہ یہ کہ زید گزشتہ تمام سالوں کا صحیح طریقہ پر حساب لگا کر شرعی فقیر کو زکوٰۃ ادا کرے ، اور ادائےگی میں تاخیر کے گناہ سے صدق دل سے توبہ کرے ۔


واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم بالصواب ۔


کتبہ۔ العبد الضعیف محمد ایاز حسین تسلیمی بہیڑی ضلع بریلی شریف ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only