(دعوت اسلامی کے پیچھے نماز ہوگی؟)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ دعوتِ اسلامی کے امام کے پیچھے تراویح پڑھنا کیسا ہے جو کہ الیاس عطاری کا ماننے والا ہوبحوالہ جواب عنایت فرمائیں
سائل _ محمد ارشد رضا قادری (بلاسپور) انڈیا
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر امام سنی صحیح العقیدہ ہے امامت کی ساری شرطیں پائی جاتی ہوں تو کسی بھی تنظیم کا ہو دعوت اسلامی یا سنی دعوت اسلامی اس امام کے پیچھے نماز ہوجائے گی ،
مراقی الفلاح صفحہ 172میں ہے:(وشرط صحتہ الا مامتہ للر جال الا صحاء سنتہ اشیاء ، الا سلام والبلوغ والعقل والذکورتہ والقراء ) بحفظ آیتہ تصح بھا الصلوٰۃ ( والسلامتہ من الا عذار)
یعنی امامت کے لیے چھ شرطیں ہیں پہلی شرط مسلمان ، کسی کافر کی امامت درست نہیں ۔ دوسری شرط بالغ نا بالغ کی امامت بھی درست نہیں ۔ تیسری شرط مردہونا ہے چوتھی شرط عاقل ہونا ۔ پانچو یں شرط بقدرِ فرض قرآن کریم پڑھنے پر قادر ہونا ۔ چھٹی شرط تندرست مقتدیوں کے لیے اعزار مستقلہ سے محفوظ رہنا۔
امام ایسا ہو ، جو مسائل نماز اور مسائل طہارت پر واقف اور با خبر ہو اور متقی اور پرہیزگار اور جملہ احکام شرعیہ پر عامل اور پابند ہو اور تمام معاصی اور گناہ کے کاموں سے اجتناب کرنے والا ہو ۔ ہر قسم کے فسق و فجور سے محفوظ ہو۔والله تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
16 مارچ 2026 عیسوی
26 رمضان المبارک 1446 ھجری
بروز دوشنبہ
ایک تبصرہ شائع کریں