(پہلی بیوی سے اجازت لئے بغیر دوسری شادی کی تو اولاد جائز ہوگی؟)
الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر اُس کی بیوی چلے گئی اور جانے کے بعد اُس کے شوہر نے دوسری شادی کرلی اور اُس نے طلاق بھی نہیں دی دوسری بیوی کا بچہ جائز ہوگا یا ناجائز ؟ مہربانی ہوگی جواب عنایت فرمائیں، بہت ضروری ہے۔
(سائل: توقیر رضا، انڈیا)
باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: جب دوسری بیوی اس کے نکاح میں ہے تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ یقیناً جائز اور ثابت النسب ہے اگرچہ پہلی کو طلاق نہیں دی۔ چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے ’’محیط برہانی‘‘(المحیط البرھانی، ۳/۱۲۴) کے حوالے سے نقل کیا ہے: قال أصحابنا رحمهم الله: لثبوت النسب مراتب ثلاثة أحدها: النكاح الصحيح وما هو من معناه في الزواج الفاسد، والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير دعوى۔ (واللفظ للمحیط) (الفتاوی الھندیۃ، ۱/۵۳۶)
یعنی، ہمارے اصحاب( یعنی احناف) نے فرمایا کہ ثبوتِ نسب کے تین مراتب ہیں۔ ان میں سے ایک نکاحِ صحیح ہے اور جو اس کے حکم میں ہے یعنی نکاحِ فاسد۔ اور اس صورت میں حکم یہ ہے کہ نسب بغیر دعویٰ کے ہی ثابت ہو جاتا ہے۔والله تعالیٰ أعلم بالصواب
نوٹ: دوسری شادی کےلئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری نہیں ہےجیساکہ عوام میں مشہور ہے کہ بلا اس کی اجازت نکاح نہ ہوگا غلط ہے. ہاں مگر مشورہ لےلینا بہتر ہوگا.
کتبہ: محمد اُسامہ قادری(پاکستان، کراچی)
پیر،۲۶/رجب، ۱۴۴۶ھ۔۲۷/جنوری، ۲۰۲۵م
ایک تبصرہ شائع کریں