بدھ، 18 مارچ، 2026

(ایک بیٹھک میں کئی آیت سجدہ پڑھی تو کتنے سجدے کرنے ہونگے؟)

 (ایک بیٹھک میں کئی آیت سجدہ پڑھی تو کتنے سجدے کرنے ہونگے؟)

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سجدہ تلاوت ایک بار میں ایک ہی سجدہ کیا جاسکتا ہے یا ایک سے زیادہ مثلاً تلاوت کرتے کرتے چار سجدہ تلاوت ایک بیٹھک میں آئے تو ان چاروں کو ایک نیت سے ایک بار میں کریں یا الگ الگ؟

(سائل: لئیق احمد رضوی بسواری کڑا کوشامبی، یوپی)


باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: صورت مسئولہ میں چاروں سجدے الگ الگ کرنے لازم ہوں گے کیونکہ ایک سجدہ اسی وقت کافی ہوتا ہے جب آیت اور مجلس دونوں متحد (ایک) ہوں۔

   چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے ’’محیط‘‘ (المحیط البرھانی، ۲/۶) کے حوالے سے لکھا ہے: شرط التداخل اتحاد الآية واتحاد المجلس حتى لو اختلف المجلس واتحدت الآية أو اتحد المجلس واختلفت الآية لا تتداخل. (الفتاوی الھندیۃ، ۱/۱۳۴)

یعنی، تداخل کی شرط یہ ہے کہ آیت اور مجلس دونوں متحد ہوں یہاں تک کہ اگر مجلس مختلف ہو اور آیت متحد ہو یا مجلس ایک ہو اور آیت مختلف ہو تو تداخل نہیں ہوگا (یعنی ایک ہی سجدہ کافی نہیں ہوگا)والله تعالیٰ أعلم بالصواب

کتبہ

محمد اُسامہ قادری

پیر،۶/شعبان، ۱۴۴۷ھ۔۲۵/جنوری، ۲۰۲۶م

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only