(تین آیت پڑھنے کے بعد غلطی ہوتو لقمہ دے سکتے ہیں؟)
الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب سے قراءت میں غلطی ہوئی، تو مقتدی نے لقمہ دے دیا، حالانکہ امام صاحب واجب مقدار سے زیادہ تلاوت کر چکے تھے۔ کیا یہ لقمہ بے محل شمار ہوگا؟ اور اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟
(سائل: از پاکستان، کراچی)
باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: صورتِ مسئولہ میں لقمہ دینا بے محل نہیں، لہٰذا نماز صحیح ہوگئی۔
چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ۹۷۰ھ لکھتے ہیں اور ان کے حوالے سے علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ نقل کرتے ہیں: والفتح على إمامه، غير منهي عنه. (البحر الرائق، ۲/۶) (رد المحتار، ۱/۶۲۲)
یعنی، اپنے امام کو لقمہ دینا منع نہیں ہے۔
اور علامہ سراج الدین عمر ابن نجیم حنفی متوفی ۱۰۰۵ھ لکھتے ہیں اور ان کے حوالے سے علامہ ابن عابدین شامی حنفی نقل کرتے ہیں: سواء قرأ الإمام قدر ما تجوز به الصلاة أم لا، انتقل إلى آية أخرى أم لا تكرر الفتح أم لا، هو الأصح۔ ( النھر الفائق شرح کنز الدقائق، ۱/۲۶۹) (رد المحتار، ۱/۶۲۲)
یعنی، چاہے امام نے اتنی قراءت کرلی ہو جو نماز کے لیے کافی تھی یا نہ کی ہو، چاہے وہ کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، لقمہ بار بار دیا ہو یا ایک ہی بار دیا ہو، اصح یہی ہے(کہ ان تمام صورتوں میں لقمہ دینا جائز ہے)۔
اور امام اہلسنّت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ سے سوال ہوا کہ نمازِ فرض میں تین آیت کے بعد لقمہ دینا چاہئے یا نہیں؟تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: امام جہاں غلطی کرے مقتدی کو جائز ہے کہ اُسے لقمہ دے اگر چہ ہزار آیتیں پرھ چکا ہو، یہی صحیح ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ۶/۳۷۱)
اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:صحیح یہ ہے کہ جب امام قرأت میں بھولے مقتدی کومطلقاً بتانا روااگرچہ قدرواجب پڑھ چکا ہو اگرچہ ایک سے دوسرے کی طرف انتقال ہی کیا ہو کہ صورتِ اولیٰ میں گوواجب اداہوچکا مگر احتمال ہے کہ رکنے اُلجھنے کے سبب کوئی لفظ اس کی زبان سے ایسا نکل جائے جو مفسدِ نماز ہو، لہٰذا مقتدی کو اپنی نماز درست رکھنے کے لئے بتانے کی حاجت ہے، بعض عوام حفّاظ کو مشاہدہ کیاگیا کہ جب تراویح میں بھولے اور یاد نہ آیا تو ایں آں یااور اسی کی قسم الفاظ بے معنی اُن کی زبان سے نکلے اور فساد نماز کاباعث ہوئے، اور صورتِ ثانیہ میں اگرچہ جب قرأت رواں ہے تو صرف آیت چھوٹ جانے سے فسادنماز کااندیشہ نہ ہو مگر اس بات میں شارع صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نص(حدیث) وارد(ہے لہٰذا لقمہ دینا جائز ہے)۔ (فتاویٰ رضویہ، ۷/۲۵۸)والله تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ:
محمد اُسامہ قادری
پیر،۲/جمادی الثانی، ۱۴۴۷ھ۔۲۴/نومبر، ۲۰۲۵م
ایک تبصرہ شائع کریں