(افطاری کا سامان کافر کودینا کیساہے؟)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وہ مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کی بچی ہوئی افطاری کسی غیر مسلم کو دے سکتے ہیں وہ ہندو پورا مہینہ روزہ رہتا ہے اور پیسہ والا بھی ہے برائے مہربانی اس مسئلے کا مدلل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔
المستفتی: عبدالرشید ممبئی مہاراشٹر انڈیا
{بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم}
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب: افطاری ایک نفلی صدقہ ہے اور نفلی صدقہ ذمی کافر کو دے سکتے حربی کو دینا جائز نہیں اور ہندوستان کے کفار حربی ہے، لہذا یہاں کے کفار کو افطاری وغیرہ کسی قسم کا صدفہ وخیرات دینا جائز نہیں ہے۔
اور روزہ کے لئے صاحب ایمان ہونا شرط ہے تو جو صاحب ایمان نہ ہو اس کا روزہ نہیں ہوگا۔
"جیساکہ البحر الرائق میں ہے"جميع الصدقات فرضا كانت او واجبة اوتطوعا لا تجوز للحربی اتفاقا كما فی غاية البيان"ترجمہ:تمام صدقات چاہے فرض ہوں یا واجبہ ہوں یا نافلہ ہوں بالاتفاق حربی کافر کو دینا جائز نہیں ہے جیساکہ غایۃ البیان میں ہے ۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،جلد ٢، صفحہ ٢٦۱، مطبوعہ بیروت-لبنان)۔
"صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:"حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں نہ واجبہ نہ نفل، اگرچہ وہ دارالاسلام میں بادشاہِ اسلام سے امان لے کر آیا ہو۔ ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگر یہاں کے کفّار ذمّی نہیں، انھیں صدقات نافلہ مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔ "(بہار شریعت، جلد 1،حصہ 5، صفحہ 931، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)وَاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہٗ ﷺ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
کتبه: عبد الوکیل صدیقی نقشبندی فلودی راجستھان (الھند)
خادم: الجامعۃ الصدیقیہ سوجا شریف باڑمیر راجستھان (الھند)
١۷ رمضان المبارک ١۴۴۷ھ، ۷ مارچ ۲۰۲۶ء، بروز ہفتہ
ایک تبصرہ شائع کریں