(تلاوت کرنے والے کو سلام کرناکیساہے؟)
(الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ ذیل میں جس جگہ قرآن پاک پڑھا جا رہا ہو تو آنے والا شخص سلام کرے یا نہیں؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
(شہادت حسین اشرفی، مرادآباد یوپی الہند)
باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: جہاں لوگ تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوں، انہیں سلام کرنا منع ہے؛ اس لیے آنے والا شخص انہیں سلام نہ کرے۔ اگر سلام کر دے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں، البتہ اگر چاہیں تو جواب دے سکتے ہیں۔ چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے ’’قنیہ‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے:
السلام تحية الزائرين، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم فليس هذا أوان السلام فلا يسلم عليهم، ولهذا قالوا: لو سلم عليهم الداخل وسعهم أن لا يجيبوه. (الفتاوی الھندیۃ، ۵/۳۲۵)
یعنی سلام کرنا ملاقات کے لیے آنے والوں کی تحیّت ہے (یعنی سلام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جو شخص ملاقات کے لیے آئے، وہ سلام کرے) لہٰذا جو شخص مسجد میں آئے اور وہاں موجود لوگ تلاوتِ قرآن، تسبیح یا نماز کے انتظار کے لیے بیٹھے ہوں، نہ کہ اس غرض سے کہ لوگ ان سے ملاقات کرنے آئیں، تو یہ سلام کا وقت نہیں؛ لہٰذا انہیں سلام نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی آنے والا انہیں سلام کرے تو انہیں اختیار ہے کہ اس کے سلام کا جواب نہ دیں۔ والله تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ: محمد اُسامہ قادری (پاکستان، کراچی)
ہفتہ،۱۱/محرم، ۱۴۴۸ھ۔۲۷/جون، ۲۰۲۶م
ایک تبصرہ شائع کریں