پیر، 8 جون، 2026

(اللہ کی رضا کےلئے قربانی کرونگا کیایہ منت شرعی ہے؟)

 

  (اللہ کی رضا کےلئے قربانی کرونگا کیایہ منت شرعی ہے؟)

(الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے منہ میں چھالا ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے اسے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ کینسر کی بیماری نہ ہو۔ میڈیکل رپورٹ کروانے سے پہلے اس نے یہ منت مانی کہ: ’’اگر میرے منہ کا یہ چھالا کینسر نہ نکلا، بلکہ کوئی دوسری بیماری ہوئی، تو میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی کے ایام میں ایک جانور کی قربانی کروں گا۔‘‘

بعد میں رپورٹ سے معلوم ہوا کہ وہ کینسر نہیں تھا، بلکہ کوئی دوسری بیماری تھی۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. مذکورہ الفاظ کے ساتھ مانی گئی یہ منت شرعاً معتبر (شرعی منت) ہے یا محض عرفی منت شمار ہوگی؟

2. اگر یہ منت واجب ہوچکی ہے، تو اس کے ادا کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟

3. اس منت کی قربانی کا گوشت کن لوگوں کو دیا جاسکتا ہے؟

4. کیا اس کا گوشت اپنے دوست احباب، رشتہ داروں اور مالدار لوگوں کو بھی دیا جاسکتا ہے، یا صرف فقراء و مساکین ہی اس کے مستحق ہیں؟

برائے مہربانی قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

(المستفتی: محمد مھید الرحمن رضوی، مغربی بنگال)

باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: صورتِ مسئولہ میں یہ منّت شرعی ہے اور شرط پوری ہوگئی ہے، اس لیے آپ پر اس منّت کو پورا کرنا واجب ہے۔ اور اس قربانی کا گوشت نہ آپ خود کھا سکتے ہیں اور نہ ہی مالداروں کو کھلا سکتے ہیں، بلکہ اسے صدقہ کرنا واجب ہے، اور اس کے وہی مصارف ہیں جو زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کے ہیں، جیسے فقراء اور مساکین۔ نیز یہ قربانی اُس قربانی کے علاوہ واجب ہے جو ایامِ نحر میں ہر مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم اور صاحبِ نصاب پر واجب ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے: وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ (الحج، ۲۲/۲۹) ترجمہ، اور اپنی منّتیں پوری کرو۔

اس سے معلوم ہوا کہ منّت پوری کرنا واجب ہے۔

اور ’’رد المحتار‘‘ (۳/۷۳۷) میں ہے: في أضحية ’’البدائع‘‘: لو نذر أن يضحي شاة، وذلك في أيام النحر، وهو موسر فعليه أن يضحي بشاتين، شاة للنذر وشاة بإيجاب الشرع ابتداء. اهـ. والحاصل أن نذر الأضحية صحيح لكنه ينصرف إلى شاة أخرى غير الواجبة عليه ابتداء بإيجاب الشرع.

یعنی، ’’بدائع الصنائع‘‘ کی ’’کتاب الأضحية‘‘(بدائع الصنائع، ۵/۶۳) میں ہے: اگر کوئی شخص ایامِ نحر میں یہ منّت مانے کہ وہ ایک بکری ذبح کرے گا، اور وہ مالدار (صاحبِ نصاب) ہو، تو اس پر دو بکریاں لازم ہوں گی، ایک منّت کی وجہ سے اور دوسری شریعت کی طرف سے ابتداءً واجب ہونے کی وجہ سے۔ حاصل یہ ہے کہ قربانی کی منّت صحیح ہے، لیکن اس سے وہ قربانی مراد ہوگی جو اس پر شریعت کی طرف سے ابتداءً واجب نہیں(بلکہ منّت ماننے سے واجب ہوئی)۔

اور اسی میں ہے: (قوله: مصرف الزكاة والعشر) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني. (رد المحتار، ۲/۳۳۹)

یعنی، زکوٰۃ اور عشر کے جو مصارف ہیں، وہی صدقۂ فطر، کفّارہ، منّت اور دیگر صدقاتِ واجبہ کے مصارف ہیں، جیسا کہ ’’قہستانی‘‘ میں ہے۔والله تعالیٰ أعلم بالصواب

کتبہ: محمد اُسامہ قادری (پاکستان، کراچی)

پیر،۲۲/ذو الحجۃ، ۱۴۴۷ھ۔۸/جون، ۲۰۲۶م

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only