(قربانی کے وقت نام نہیں لیاتو قربانی ہوئی؟)
(السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلء ذیل کے بارے میں جس کے نام سے قربانی کی جائے قربانی کرتے وقت اس نام نہیں لیا گیا تو کیا قربانی ہوگئے کہ نہیں ہوئی
اس کا جواب عنایت فرمائیں
شہادت حسین اشرفی نعیمی مرادآباد یوپی الہند
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب
جس شخص کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہو، ذبح کے وقت اس کا نام زبان سے لینا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ اصل اعتبار نیت کا ہے اگر قربانی کرنے والے کی نیت یہ تھی کہ یہ قربانی فلاں شخص کی طرف سے ہے تو ذبح کے وقت اس کا نام نہ لینے کے باوجود قربانی درست اور ادا ہو جائے گی قربانی اور شرکتِ قربانی میں معتبر نیت ہے ناموں کا زبان سے ذکر کرنا شرط نہیں لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر قربانی متعین شخص کی طرف سے نیت کے ساتھ کی گئی تھی تو قربانی صحیح ہو گئی۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (سورة الفاطر آیت 38) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے
خزانۃ الاکمل میں ہے”ولو لم یذکر اسماءھم عند الذبح جاز ،والمعتبر ھو النیۃ“ذبح کےوقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے جب بھی جائز ہے کہ معتبر نیت ہے۔(خزانۃ الاکمل، ج 3، ص 512، دار الکتب العلمیۃ ،بیروت) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑها، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار
ایک تبصرہ شائع کریں