اتوار، 24 مئی، 2026

(دماغی توزن ٹھیک نہ ہوتو کفریہ کلمہ پر کافرہوگا؟)

 

  (دماغی توزن ٹھیک نہ ہوتو کفریہ کلمہ پر کافرہوگا؟)

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ 80 ,85 سالہ ایک شخص جو دماغی پبرابلم کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے زیر علاج تھا اور قوت یاداشت بھی کمزور ہوگئ تھی اسی سبب اسے نسیان لاحق ہو گیا تھا اور دماغی کیفیت خراب ہونے کی وجہ سے کبھی بہکی بہکی اوٹ پٹانگ باتیں کرتا کبھی خود سے باتیں کرتا کبھی دیواروں سے باتیں کرتا اور عقل مندوں کی طرح بھی بولتا لیکن  کسی کو مارتا یا گالی نہیں بکتا ایک مرتبہ جمعہ کے دن منبر پر چڑھ کر سب کے سامنے بولا "مجھ پر وحی آتی ہے اللہ کا نبی ہوں" ایسے اور بھی کچھ الفاظ استعمال کیے تھے اس وقت کچھ لوگوں نے اسے منبر سے اتار کر گھر پہنچا دیا جب اس شخص کے لڑکے کو پتہ چلا تو  اس کے لڑکے نے کہا کہ "ابا تم نے مسجد میں ایسے الفاظ بولے تھے" تو اس پر اس نے کہا کہ بیٹا مجھے کچھ یاد نہیں کیا بولا ۔لڑکے نے کلمہ پڑھوایا اور اس نے کلمہ پڑھ لیا اور ایک معذرت نامہ لکھ کر مسجد میں لگا دیا تاکہ لوگوں کو اس کی دماغی کیفیت کی خرابی کے بارے میں علم ہو اور لوگ بد گوئی سے باز رہے,گھر والوں نے بتایا کہ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق اس آدمی کا دماغی سنتلن ٹھیک نہیں تھا اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے اس شخص کا انتقال ہو گیا اور اس پر کچھ لوگوں نے جنازہ پڑھانے سے صاف انکار کر دیا ۔مجبوراً رشتہ داروں نے شہر باہر سے ایک امام کو بلایا اور اس کی نماز پڑھوائی۔ فی الحال شہر اور سماج کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کفر بک دیا تھا اس لیے جو بھی اس کی فاتحہ میں جاۓگا یا دسویں ۔بیسویں میں شامل ہوگا وہ اسلام سے خارج ہوجاۓگا اور شادی والا ہے تو نکاح ٹوٹ جاۓگا ,اس مسئلے کو لیکر گھر والے بہت پریشان رہتے ہیں ان کے ساتھ لوگ لا تعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ  جواب عنایت فرمائیے کہ عندالشرع اس کا کیا حکم ہے آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ۔ المستفتی: نعیم الدین قریشی گجرات

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 الجواب بعون الملک الوھاب 

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں احکام اور تکالیف کا دار و مدار اہلیت پر ہے اور صحت ارتداد کے لیے عقل سلیم ہونا شرط ہے, فقہی اعتبار سے جس کا ذہنی توازن درست نہ اس پر شریعت کے احکام لاگو نہیں ہوتے اس لیے اگر کوئی شخص حالت بے خودی میں یا دماغی کیفیت درست نہ رہنے کی وجہ سے کفریہ الفاظ بول دے تو اس پر حکم کفر نہیں لگےگا اور نہ وہ دائرہءاسلام سے خارج ہوگا 

لھذا اگر واقعی ایسا ہی تھا جیساکہ سوال میں بیان ہوا تو بر تقدیر صدق مستفتی مذکورہ صورت میں ایسے شخص کا دماغی کیفیت خراب ہونے کی وجہ سے درج بالا الفاظ بول دینے پر حکم ارتداد نہیں لگےگا یعنی اسے کافر یا مرتد نہیں کہا جاۓگا کیوں کہ ایسے شخص کے اقوال شرعاً معتبر نہیں ہوتے

ذہنی توازن درست نہ ہونا ایک نفسیاتی مرض ہے اور مریض کے بارے میں قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے "ولا علی المریض حرج"  اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے (سورہ نور 24 آیت61)

مفسرین کرام درج بالا آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں "فالحرج مرفوع عنھم فی ھذا" یعنی جو مریض ہیں مرض کی حالت میں ان سے حرج و تنگی اور گرفت اٹھا لی گئ ہے  (عبدالرحمن بن محمد تفسیر الثعالبی 3 ۔127) 

سنن ابوداؤد شریف میں حضرت مولٰی علی شیر خدا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یحتلم وعن المجنون حتی یعقل" 

تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے :(۱)سونے والا یہاں تک کہ وہ بیدار نہ ہوجائے(۲) بچہ یہاں تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے، اور (۳) مجنون یہاں تک کہ اسے عقل آجاۓ .(سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا ج:۲،ص:۲۴۹، جامع ترمذی، ابواب الحدود، باب ما جاء فیمن لایجب علیہ الحد ج:۱،ص:۲۶۳)

فتاوی شامی حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : فلا تصح ردة مجنون و معتوہ و موسوس و صبی لا یعقل و سکران و مکرہ علیھا " یعنی مجنون, معتوہ  (بہکا ہوا شخص) ذہنی الجھن کا شکار , ناسمجھ بچہ, مدہوش شخص یا ایسا کرنے (یعنی کفر بولنے) پر مجبور شخص کا ارتداد درست نہیں (فتاوی شامی ج 4 ص 224)

 فتاوی عالمگیری میں ہے "المرتد عرفا هو الراجع عن دين الإسلام كذا في النهر الفائق وركن الردة إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الإيمان وشرائط صحتها العقل فلا تصح ردة المجنون ولا الصبي الذي لا يعقل، أما من جنونه ينقطع، فإن ارتد حال الجنون لم تصح"یعنی : عرفی اصطلاح میں مرتد وہ ہے جس نے دین اسلام کو چھوڑ دیا ہو اسی طرح النہرالفائق میں ہے اور ارتداد کا رکن یہ ہے کہ ایمان کے وجود کے بعد (بقائمی ہوش و حواس) کلمئہ کفر زبان پر جاری کرنا اور صحت ارتداد کے لیے عقل ہونا شرط ہے اس لیے مجنون (دیوانے) اور غیر عقلی بچے کا ارتداد درست نہیں,البتہ جس کا جنون منقطع ہو گیا ہو اگر اس نے جنون کی حالت میں ارتداد کیا تو درست نہیں (یعنی ایسے پر کفر و ارتداد کا حکم نہیں لگےگا) (فتاوی عالمگیری کتاب السیر فصل فی احکام المرتدین ج٢ص ٢٥٣)

 اسی میں ہے " من أصابه برسام، أو أطعم شيئا فذهب عقله فهذى فارتد لم يكن ذلك ارتدادا، وكذا لو كان معتوها، أو موسوسا، أو مغلوبا على عقله بوجه من الوجوه، فهو على هذا كذا في السراج الوهاج"یعنی: اگر اسے برسام ہو جاۓ یا اسے کچھ کھلا دیا جاۓ اور اس کا دماغ خراب ہو جاۓ اور بد حواس ہونے کی وجہ سے کلمئہ کفر بول دے تو یہ ارتداد نہیں ہے (یعنی اسے مرتد یا کافر نہیں کہا جاۓگا)اسی طرح اگر وہ دیوانہ تھا یا مضطرب تھا یا کسی طرح اس کا دماغ پریشان تھا (اور اس نے کفر بک دیا )تو اس کا حکم بھی اسی طرح ہے (یعنی اسے مرتد یا کافر نہیں کہا جاۓگا)جیساکہ فتاوی سراج الوھاج میں ہے (فتاوی عالمگیری ج ٢ص ٢٦٣) 

حکم شرع جانے بغیر جن لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا ان کا یہ عمل قطعاً غیر مناسب بلکہ دل آزار تھا نیز خاندان اور اہل علاقہ کا اس طور لا تعلقی کا اظہار کرنا اور کہنا کہ "جو بھی اس کے فاتحہ میں جاۓگا اسلام سے خارج ہوجاۓگا نکاح ٹوٹ جاۓگا" یہ محض زیادتی اور باعث ایذا رسانی ہے جو شرعی لحاظ سے بالکل بھی جائز نہیں بلا وجہ شرعی کسی مؤمن کو تکلیف دینا حرام اور سخت گناہ ہے جس کی قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں اور سنن ابوداؤد شریف کی حدیث مبارک میں ہے  "ولا یحل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلاث لیال" 

اور کسی مسلمان کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرنا جائز نہیں

لھذا اہل خاندان اور اہل علاقہ پر لازم ہے کہ فوت شدہ کے گھر والوں سے فوری طور پر معذرت طلب کریں اور ان کے ہاں مرحوم فاتحہ میں شرکت کریں اور آئندہ حکم شرع دریافت کیے بغیر کچھ کہنے سے  مکمل طور پر احتیاط برتیں  ۔ واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلی اعلم بالصواب 

        کتبہ 

سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی

 بتاریخ ٦ ذوالحجہ ١٤٤٧ھ

 مطابق ٢٤ مئ ٢٠٢٦ بروز اتوار 

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only