(سید طالب علم کے سامنے کرسی پر بیٹھناکیساہے؟)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سید بچے کو مدرسے میں غیر سید بچوں کے ساتھ سلایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ نیز کیا استاد سید بچے کے سامنے کرسی پر بیٹھ سکتا ہے؟ اور سید بچے کو مدرسے میں کس طریقے سے رکھا جائے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور معتبر کتبِ فقہ کے حوالہ سے رہنمائی فرمائیں۔
المستفتی:محمد نظام الدین نوری، مرادآباد
الجواب بعون الملک الوہاب
ساداتِ کرام کا نسب رسول اللہ ﷺ سے منسوب ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہے اس لیے مدرسے کے ذمہ داران، اساتذہ اور طلبہ پر لازم ہے کہ سید طالب علم کے ساتھ ادب، احترام، شفقت اور حسنِ سلوک کا معاملہ رکھیں تاہم محض سید ہونے کی وجہ سے شریعت نے یہ لازم نہیں کیا کہ اسے دوسرے غیر سید طلبہ سے بالکل الگ رکھا جائے یا استاد اس کے سامنے کرسی پر نہ بیٹھے
اگر غیر سید بچے بھی باادب ہوں سید بچے کو کسی قسم کی ایذا یا بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو، اور رہائش کا انتظام مناسب ہو تو سید بچے کو غیر سید بچوں کے ساتھ ایک کمرے یا رہائشی جگہ میں سلانے میں کوئی قباحت نہیں البتہ اگر غیر سید بچوں کی طرف سے سید بچے کی اہانت، بدسلوکی یا ایذا رسانی کا اندیشہ ہو تو مدرسہ انتظامیہ کے لیے مناسب ہے کہ اسے الگ یا زیادہ محفوظ ماحول میں رکھا جائے۔ حضور اعلیٰ حضرت اِمامِ اَہلسنّت سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 423 پر فرماتے ہیں سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے اگرچہ اس کے اعمال کیسے ہوں ان اعمال کے سبب اس سے تنفر نہ کیا جائے نفس اعمال سے تنفر ہو بلکہ اس کے مذہب میں بھی قلیل فرق ہو کہ وہ حد کفر تک نہ پہنچے کہ جیسے تفضیل تو اس حالت میں بھی اس کی تعظیم سیادت نہ جائے گی ہاں اگر اس کی حد کفر تک پہنچے جیسے رافضی وہابی قادیانی نیچری وغیرہم تو اب اس کی تعظیم حرام ہے کہ وہ جو وجہ تعظیم تھی یعنی سیادت وہی نہ رہی
استاد کا سید طالب علم کے سامنے کرسی پر بیٹھنا شرعاً جائز ہے اس سے سید کی اہانت لازم نہیں آتی کیونکہ یہاں معاملہ تدریس اور تعلیمی نظم کا ہے، بلکہ فضیلت کا مدار صرف نسب پر نہیں، بلکہ علم و تقویٰ بھی بڑی فضیلت ہے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 275 میں غیر عالم سید کے مقابلے میں عالم کی فضیلت بیان فرمائی ہے، اور آیتِ کریمہ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ سے استدلال فرمایا ہے۔لہٰذا استاد کا کرسی پر بیٹھنا اور سید طالب علم کا اس کے سامنے بیٹھنا بے ادبی نہیں۔
لہٰذا حاصلِ کلام یہ ہے کہ سید بچے کو غیر سید بچوں کے ساتھ سلانا فی نفسہٖ ناجائز نہیں، اور استاد کا اس کے سامنے کرسی پر بیٹھنا بھی جائز ہے۔ البتہ سید کی تعظیم و توقیر، حسنِ سلوک اور کسی بھی قسم کی اہانت سے بچنا لازم و ضروری ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار
ایک تبصرہ شائع کریں