جمعہ، 11 ستمبر، 2026

(شولر پلیٹ لےکر ووٹ دیناکیساہے؟)

 

  (شولرپلیٹ لیکر ووٹ دیناکیساہے؟)


السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

ہمارے محلے کی مسجد میں سولر پلیٹ کی ضرورت ہے۔ محلے کے کچھ لوگوں نے یہ طے کیا ہے کہ ایک غیر مسلم امیدوار سے یہ سودا کیا جائے کہ اگر آپ ہماری مسجد میں اپنی طرف سے سولر پلیٹ لگوا دیتے ہیں تو ہم پورے محلے والے الیکشن میں آپ کو ووٹ دیں گے کیا اس طرح مسجد کے کام کے بدلے میں ووٹ کا سودا کرنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟

برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

سائل: محمد مستجاب نعیمی پورنوی

پالی راجستھان

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وبالله التوفيق

صورتِ مسئولہ میں محلے کے لوگوں کا کسی امیدوار سے یہ معاہدہ کرنا کہ آپ مسجد کے لیے اپنی طرف سے سولر پلیٹ لگوا دیں ہم اس کے بدلے الیکشن میں آپ کو ووٹ دیں گے شرعاً جائز نہیں ہے اس لیے کہ ووٹ ایک امانت اور ذمہ داری ہے اسے کسی مالی منفعت یا ذاتی فائدے کے بدلے فروخت کرنا درست نہیں !

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء: آیت 58) 

 بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو

ووٹ چونکہ عوام کی طرف سے کسی شخص کو نمائندگی دینے کا ذریعہ ہے، اس لیے اسے امانت سمجھ کر امیدوار کی اہلیت، دیانت، صلاحیت اور علاقے کے مفاد کو دیکھتے ہوئے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ سولر پلیٹ یا کسی دوسرے ذاتی فائدے کے عوض۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے: وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد. (ج 5، ص 362) مصباح میں ہے کہ رشوت (راء کے نیچے زیر کے ساتھ) اس مال یا چیز کو کہتے ہیں جو کوئی شخص حاکم وغیرہ کو اس لیے دیتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے، یا اسے اپنی مرضی کے مطابق کوئی کام کرنے پر آمادہ کر دے۔

مسجد کی سولر پلیٹ کے بدلے ووٹ دینے کا سودا کرنا ناجائز ہے مسجد کی ضرورت کے لیے چندہ کیا جائے ووٹ کو کسی مالی فائدے کے عوض دینا یا دلوانا جائز نہیں ووٹ اس لیے کہ بیع میں عوضین کا مال ہونا ضروری ہے، شریعت کی نگاہ میں مال وہ ہے جس کی طرف انسانی طبیعت مائل ہو اور بوقتِ حاجت اس کا ذخیرہ کرنا ممکن ہو اوریہ بات عیاں ہے کہ ووٹ مال نہیں ہے تو ووٹ دینے کے عوض کچھ لینا محض رشوت ہوگا، جس کا لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے .واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

نوٹ: اگر پردھان پردھانی کا مستحق ہے یعنی سماج کا کام کرنے والاہے توپہلے اسے ووٹ دے کر جتادیں پھر وہ لگوادے توحرج نہ ہوگا.

کتبہ 

محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 

ضلع۔ کشن گنج، بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only