(فیصلہ کردیتاہوں سے کون سی طلاق ہوگی ؟)
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓکرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ میاں اور بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا بیوی غصے میں بولی مجھے اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا میرا فیصلہ کردو اس پر شوہر نے غصے میں تین بار کہا "میں فیصلہ کر دیتا ہوں" اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا صورت مذکورہ میں بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر طلاق کی نیت سے نہ بولا ہو تو کیا حکم ہے ؟جواب عنایت فرمائیں
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ صورت مسؤلہ میں غصے کی حالت میں شوہر کا بیوی کے جواب میں "فیصلہ کر دیتا ہوں" کہنے سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے اور بیوی نکاح سے نکل چکی ہے اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت نہ کی ہو البتہ زائد دوبار" فیصلہ کر دیتا ہوں" بولنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوئی کیوں کہ بائن دوسری بائن کے ساتھ لاحق نہیں ہوتی
احوال تین ہیں حالت مطلقہ حالت مذاکرہء طلاق اور حالت غضب (غصہ) اور کنائی الفاظ سے طلاق واقع ہونے میں نیت یا دلالت حال کا پایا جانا ضروری ہے جیساکہ در مختار میں ہے فا لکنایات لاتطلق بہا قضائً إلا بنیۃٍأودلالۃ الحال۔ (الدرالمختار مع ردالمختار، ۳/۲۹۶) پس تو الفاظ کنایہ سے قضاءً طلاق واقع نہ ہوگی جب تک کہ نیت یا دلالت حال نہ پائی جاۓ
فتاوی شامی میں ہے قولہ: "(لایلحق البائن البائن،) المراد بالبائن الذی لایلحق ھو ما کان بلفظ الکنایۃ"( فتاوی شامی ۴/۵۴۲)
یعنی: بائن دوسری بائن کے ساتھ لاحق نہیں ہوتی۔بائن سے مراد وہ جو لفظ کنایہ سے لاحق نہ ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ بائن طلاق کے بعد دوسری طلاق صرف صریح الفاظ کی صورت میں لاحق ہوگی،کنایہ لفظ کی صورت میں نہیں،کیونکہ بائن کے بعد کنایہ لفظ استعمال کرنے کی صورت میں دوسرے لفظ کو اخبار عن الاول(پہلی طلاق کی خبر) قرار دینا ممکن ہوتاہے،اس لیے اسے اخبار پر ہی محمول کیا جائےگا
اگر دونوں راضی خوشی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو عدت کے اندر یا بعد انقضاۓعدت نۓ مہر کے ساتھ نکاح جدید کرنا ہوگا بغیر نکاح دنوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں
الانتباہ: یہاں یہ بات واضح رہے کہ اگر شوہر اس سے قبل کبھی ایک طلاق دے چکا تھا تو یہ دوسری ہوئی اور شوہر کے پاس اب ایک طلاق کا اختیار باقی رہےگا. واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
کتبہ
سید محمد نذیرمیاں سہروردی داہود شریف گجرات انڈیا
بتاریخ 11 جمادی الاول 1448ھ مطابق 22 اکتوبر 2026ء بروز جمعرات
ایک تبصرہ شائع کریں