(تو آزاد ہے سے کون سی طلاق ہوگی؟)
(السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان متین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو غصے میں کہا میں تجھے طلاق دیتا ہوں میں تجھے آزاد کرتا ہوں دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا مذکورہ الفاظ بولنے سے طلاق واقع ہوگئ ؟ اگر طلاق ہوئی تو کتنی ہوئی ؟ جواب عنایت فرمائیے!
سائل محسن خان پٹھان داہود
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ طلاق دیتا ہوں جملہ صریح ہے البتہ آزاد کرتا ہوں در اصل الفاظ کنایہ سے تھا مگر اب چونکہ عرف میں صریح کے معنی میں استعمال ہونے کی بنا پر اسے صریح مانا جاتا ہے لھذا دریافت کردہ صورت میں زید کی بیوی ہندہ پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں اگر زید چاہے تو عدت کے اندر بیوی سے رجعت کر سکتا ہے اس کے لیے نکاح جدید کی اصلاً حاجت نہیں مگر بعد انقضاۓ عدت بیوی بالکل نکاح سے باہر ہوجاۓگی اور پھر ایک ساتھ رہنے کے لیے بیوی کی رضا مندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح جدید لازم ہوگا
آزاد کرتا ہوں مروجہ عرف میں بطور صریح بولا جاتا ہے اور لفظ صریح سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔جیسا کہ البحرالرائق میں ہے: "ومن المتاخرین کانو یفتون بان لفظ التسریح بمنزلة التصریح یقع بہ طلاق رجعی بدون النیة" یعنی: متاخرین علماۓکرام اس پر فتوی دیتے تھے کہ لفظ تسریح صریح کے برابر ہے جو بغیر نیت کے طلاق رجعی کو واقع کرتا ہے۔( البحرالرائق کتاب الطلاق باب کنایات قولہ سرحتک فارقتک ج ٣ ص ٥٢٤ )
علامہ شامی قادری نقشبندی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "الصریح ما غلب فی العرف استعمالہ فی الطلاق بحیث لایستعمل عرفا الا فیہ من ای لغۃ کانت” یعنی: "صریح وہ ہے جسے اکثر عام طور پر طلاق کے معنی میں بولا جاتا ہو اگرچہ وہ کسی بھی زبان کا لفظ ہو"(ردالمحتار ج ٤ ص٤٦٤ )
حضرت علامہ امام ابوبکر بن علی بن محمد الحدّاد الزبیدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "فالصریح: ما ظھرالمراد بہ ظھورًا بینًا مثلًا انت طالق انت حرة لان ھٰذہ الالفاظ تستعمل فی الطلاق ولا تستعمل فی غیرہ" یعنی: صریح وہ ہے جس سے طلاق مراد ہونا واضح طور پر ظاہر ہو مثلًا تو طلاق یافتہ ہے تو آزاد ہے اس لیے کہ یہ الفاظ طلاق میں استعمال ہوتے ہیں اور چیز میں استعمال نہیں ہوتے ( الجوھرةالنیرة ج ٢ ص ١٦٥ )
عدت کے اندر رجعت کرنے اختیار
ہدایہ میں ہے : "وإذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقة أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا في عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض" یعنی : جب مرد اپنی عورت کو ایک یا دو طلاق رجعی دے تو اسے عدت کے اندر رجعت کا اختیار حاصل ہے خواہ عورت اس سے راضی ہو یا نہ ہو (ہدایہ: ج۲ ص۳۷۳)
الانتباہ : ہندہ پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اس لیے اب زید کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے خدا نخواستہ اگر زید آئندہ جب کبھی طلاق دےگا تو حرمت مغلظہ سے اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوجاۓگی اور بغیر حلالہ کے نکاح جائز نہ ہوگا لھذا اب زید کو چاہیے کہ مکمل احتیاط سے کام لے .واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
کتبہ
سید محمد نذیر میاں سہروردی داہود شریف گجرات
بتاریخ 15 جمادی الاول 1448 ھ مطابق 27 اکتوبر 2026 ء بروز منگل
ایک تبصرہ شائع کریں